خیر و عافیت

قسم کلام: اسم کیفیت ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - سلامتی، خیریت، تندرستی۔ "چاروں بیٹوں نے . شکار کھیلا اور خیر و عافیت کے ساتھ محل میں آ گئے۔"      ( ١٩٨٣ء، علامتوں کا زوال، ١٣٢ ) ٢ - مطلق نہیں، بالکل نہیں۔  اوصاف ہیں زیادہ زحد اپنی آہ میں لیکن جو پوچھئے تو اثر خیر و عافیت      ( ١٨١٨ء، انشا، کلیات، ٣٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'خیر' کے بعد 'و' بطور حرف عطف لگانے کے ساتھ عربی ہی سے اسم مشتق 'عافیت' لگانے سے مرکب 'خیر و عافیت' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٠٠ء کو "قصہ گل و ہرمز" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سلامتی، خیریت، تندرستی۔ "چاروں بیٹوں نے . شکار کھیلا اور خیر و عافیت کے ساتھ محل میں آ گئے۔"      ( ١٩٨٣ء، علامتوں کا زوال، ١٣٢ )